Blog

بک وہیٹ ایک تعارف: بک وہیٹ Fagopyrum esculentum) Buckwheat اپنے نام کے متضاد وہیٹ یا جڑی بوٹی نہیں ہے بلکہ یہ’’ گرہین لائک‘‘ فروٹ میں شمار کیا جاتاہے۔اس کی بوئی، کاشت اورفصل کی تیاری اور پکانے کاطریقہ بلکل دوسرے اجناس کی طرح ہے۔ یہ بورے اور کالے تیکونی شکل کے بیج دنیا کے قدرتی سپر فوڈ میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے بیج اورآٹے کو دوسرے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں گلگت بلتستان اورپڑوس کے تبتی علاقے اور دنیا کے دوسرے سردعلاقے روس اور امریکہ وغیرہ میں اس کی بوئی کی جاتی ہے۔ اسےگلگت بلتستان میں اسے برو اورغیوس کے نام سے جا تا ہے ۔ بک وہیٹ اور گلوٹین : بک وہیٹ سے متعلق سب سے بڑی بات اس کے گلوٹین فری خاصیت ہے۔ یہ سو فیصد گلوٹین فری ہے۔ گلوٹین پروٹین کی ایک قسم ہے جو کہ ہمارے روزمرہ کے کھانوں خاص کرگندم، جو اور دالوں وغیر ہ میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے روٹی اور آٹے میں نرمی پن اور لوج اسی گلوٹین کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ سیلیک(شکمی) کے امراض میں گلوٹین کی وجہ سے مریض کو صر ف گلوٹین سے پاک کھانے کے ضرورت پڑتی ہے اور وہ عام روٹی اور بریڈ وغیرہ نہیں کھا سکتے۔ گلوٹین انٹولرنس ایک مورثی بیماری ہے اور والدین سے بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ اس پیچیدہ بیماری کو کوئک ڈسیس کو کہا جاتا ہے اور سو میں سے ایک فرد کو لاحق ہوسکتی ہے۔ ان افراد کے لیے کھانے میں بک وہیٹ کا استعمال بہترین حل ہے۔ بک وہیٹ کے فائدے: یہ دل اور خون کے امراض کے لیے مفید ہے کینسر کے سیلز بننے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ بک وہیٹ مکمل گلوٹین فری غذا ہے۔ گلوٹین الرجی اور کوئک ڈسیس کی مریضوں کے لیے بہترین متبادل غذا ہے۔ خون میں شوگر کی مقدر کم کرنے کے لیے اور ذیابطیس کے مفید ہے بک وہیٹ پتھری (گا ل سٹون) کے لیے بھی مفید ہے۔ سبزیوں اور پھل فروٹ سے ذیادہ طاقتی ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے بھی بک وہیٹ کاا ستعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نیوٹریشن اور فائبر سے بھر پور اور امراض معدہ میں انتہائی مفید ہے۔ معدے اور انتوں کی کمزوری، انفیکشن اور الرجی کے لیے شفا بخش ہے۔ بلڈپریشراور ہائی کولسڑول کوکنٹرول میں لاتا ہے ۔ اہم ویٹامین اور منرل کے لیے حصول کا ذریعہ ہے۔ بک وہیٹ روزمرہ کے کھانوں کا بہتر ین متبادل ہے اور ہر کوئی اپنے کھانے میںخوش ذائقے کے لیے زیر استعمال لاسکتے ہیں۔ بک وہیٹ پکانے کے طریقے: ۱۔بک وہیٹ کے سیڈز کو عام مشین میں پسوانے کے بعد اس کے آٹا حاصل کیا جاتا ہے اور مکئ کی روٹی کی طرح موٹی روٹی بنا کرتوا میں پکایا جا تا ہے اور یہ نہایت خوش ذائقہ ہے اور ابتدامیں کھانے میں تھوڑا سخت محسوس ہوتا ہے مگر اس کی ریگولر کھانے کے عادت اس کے طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہ صحیح طرح پک جانے کے باوجود کچھا لگتاہے مگر یہ معدے کے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔ یہ طریقہ سب سے معقول طریقہ ہے۔ اپ اپنے پسنداور غذائی چاٹ کے مطابق اس میں مختلف ائٹم مثلابکنگ پاوڈر، انڈا اور مصلہ بھی شامل کر سکتے ہیں۔ ۲۔ اسکو پکانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کی پسوائی کرتے وقت صر ف اس کاصرف چھلکا اتار دیا جا تا ہے۔ (جو نہایت آسان اور پسوائی کی مشین میں جھالی تبدیل کر کے کیا جا سکتا ہے)اور عام سفید چاول کی پانی میں پکا کر کھایا جائے۔ ۳۔ بک وہیٹ زیادہ باریک کر کے پسوانے کے بعد اس کے دلیہ بنا کر اس میں دودھ اور دیگر خوش ذائقہ چیزیں ملا کر استعمال کریں۔ بک وہیٹ سے متعلق احتیاط: ۱۔جن لوگوں کو چاول سے الرجی ہے انہیں بک وہیٹ سے الرجی ہوسکتی ہے۔ ۲۔جو لوگ مستقلا اسکاا ستعمال کرتےہیں وہ اس کی پسوانے کے مشین گھر میں ہی رکھے اور اپنے ضرورت کے تحت مشین سے پسوائے۔ پسوانے والی مشین صرف اس کی پسوائی کے لیے استعما ل ہو۔ ۳۔ایک ہی وقت میں اس کا بہت زیادہ استعمال کمزوری کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔ ۴۔ مستند معلج کی رہنمائی میں اس کا استعمال کرسکتےہیں۔ بک وہیٹ پکانے کے طریقے ۱۔بک وہیٹ کے سیڈز کو عام مشین میں پسوانے کے بعد اس کے آٹا حاصل کیا جاتا ہے ۲۔حسب ضرورت بک وہیٹ کا آٹے میں پانی ڈال کر گوندھ لیں کہ یہ عام روٹی کے طرح سخت نہ بنے۔ ۳۔ اپنے پسنداور غذائی چاٹ کے مطابق اس میں مختلف ائٹم مثلابکنگ پاوڈر، انڈا اور مصلہ بھی شامل کر سکتے ہیں۔ ۴۔ مکئ کی روٹی کی طرح موٹی روٹی کا پیڑا بنا لیں۔ ۵۔توا کو گرم کر اس پر اپنےحساب سے کوکنگ تیل اتنی مقدار ڈالیں کہ روٹی جل نہ جائے۔ ۶۔یہ صحیح طرح پک جانے کے باوجود کچھا لگتاہے مگر یہ معدے کے لیے کوئی نقصان دہ نہیں ہے۔ ۷۔ایک ہی وقت میں اپنے ضرورت کے مطابق بنا کر چائے کے ساتھ پراٹھے کی طرح کھا سکتے ہیں۔ نوٹ: یہ نہایت خوش ذائقہ ہے اور ابتدامیں کھانے میں تھوڑا سخت محسوس ہوتا ہے مگر اس کی ریگولر کھانے کے عادت اس کے طرف کھینچ لیتی ہے۔ یہ طریقہ سب سے معقول طریقہ ہے۔ ۲۔ اسکو پکانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس کی پسوائی کرتے وقت صر ف اس کاصرف چھلکا اتروا دیجیے۔ (جو نہایت آسان اور پسوائی کی مشین میں جھالی تبدیل کر کے کیا جا سکتا ہے) حسب ضرورت عام سفید چاول یا پلائو کیطرح پکا کر کھایا جائے۔ ۳۔ بک وہیٹ زیادہ باریک کر کے پسوانے کے بعد اس کے دلیہ بنا کر اس میں دودھ اور دیگر خوش ذائقہ چیزیں ملا کر استعمال کریں۔

بک وہیٹ کے بارے میں اردو مضمون

1 buckwheat kay baray main mukamal malommat urdu main2 Buckwheat kia hai urdu English Introduction taroof3 Buckwheat aor gluten se mutaliqبک وہیٹ ایک تعارف: بک وہیٹ Fagopyrum esculentum) Buckwheat اپنے نام کے متضاد وہیٹ یا جڑی بوٹی نہیں ہے بلکہ یہ’’ گرہین لائک‘‘ فروٹ میں شمار کیا جاتاہے۔اس کی بوئی، کاشت اورفصل کی تیاری اور پکانے کاطریقہ بلکل دوسرے اجناس کی طرح ہے۔ یہ بورے اور کالے تیکونی شکل کے بیج دنیا کے قدرتی سپر فوڈ میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کے بیج اورآٹے کو دوسرے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں گلگت بلتستان اورپڑوس کے تبتی علاقے اور دنیا کے دوسرے سردعلاقے روس اور امریکہ وغیرہ میں اس کی بوئی کی جاتی ہے۔ اسےگلگت بلتستان میں اسے برو اورغیوس کے نام سے جا تا ہے ۔ 5 Buckwheat pakane kay tariqay urdu main6 Buckwheat khane se mutaliq ehtiyat7 buckwheat ki bej pic8 Buckwheat ki roti bread9 Buckwheat poday ka photo10 Buckwheat pakistan bhr main free home delivery k sath mangwane keleyeBuckwheat kay elawa dusray natural products

Mazeed detail keleye

www.buck-wheat.com

Buckwheat in Pakistan Himalayan superfood Buckwheat

buck-wheat.com